بلال

بلال

17
ھ کے اواخر میں حضرت عمر شام پہنچے، انھوں نے حمص ، دمشق اور شام کے انتظامی معاملات نمٹائے اور وبا میں وفات پانے والوں کے میراث کے مسائل سلجھائے۔پھروہ جابیہ پہنچے ، بلال ان کے ساتھ تھے۔ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو لوگوں نے اصرار کیا ، بلال اذان دیں۔کئی سالوں کے بعد بلال کی آواز بلند ہوئی توسیدنا عمر،وہاں پرموجود صحابہ اور حاضرین ہچکیاں لے کر رونے لگے ،خود بلال کی ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ شام کی سرزمین میں بیت المقدس کے قریب بلال کی یہ پہلی اور آخری اذان تھی-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s