اجڑے ہوئے ہڑپہ کے آثار کی طرح

اُجڑے ہوئے ہڑپہ کے آثار کی طرح
زندہ ہیں لوگ وقت کی رفتار کی طرح

IMG_20140328_202109

کیا رہنا ایسے شہر میں مجبوریوں کے ساتھ
بکِتے ہیں لوگ شام کے اخبار کی طرح

بچوں کا رزق موت کے جووئے میں رکھ دیا
سرکس میں کُودتے ہوئے فنکار کی طرح

قاتل براجمان ہیں منصف کے سائے میں
مقتول پھِر رہے ہیں عزادار کی طرح

وعدے ضرورتوں کی نذر کردیئے گئے
رشتے ہیں سارے ریت کی دیوار کی طرح

محسن میرے وجود کو سنگسار کرتے وقت
شامل تھا سارا شہر اِک تہوار کی طرح

شاعر: نا معلوم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s